21 اکتوبر 2011 - 20:30

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔

ابنا: لوگوں کی لاشیں پہاڑوں، نالوں اور صحراں سے مل رہی ہیں۔ کراچی کی طرح اگر ضرورت پڑی تو بلوچستان میں بھی ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی پر سپریم کورٹ کا لارجر بنچ تشکیل دیا جائے گا۔کوئٹہ میں دوروزہ انوائرنمنٹل لا کانفرس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ وفاقی حکومت آئین کے تحت صوبائی حکومتوں کو پابند کرے کہ وہ لوگوں کی جان ومال کو تحفظ فراہم

کرے۔جمہوری حکومت میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ لوگوں کو تحفظ دینا حکومت کا آئینی فریضہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے سپریم کورٹ میں جسٹس شاکراللہ جان کی نگرانی میں قائم بنچ خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں عدالتی کمیشن بھی کام کررہا ہے۔ بلوچستان ہائیکورٹ ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی پر ازخود نوٹس لے چکی ہے بلوچستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے جہاں تک جاسکے جائیں گے۔ بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے ایک سو پچاسی میں سے پچانوے افراد بازیاب ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں موجود جنگلات اور پہاڑ نہ صرف قدرتی حسن ہیں بلکہ پانی اور ماحول کو صاف رکھنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ انکے کٹا کو روکنے اور مناسب استعمال کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ کانفرس سے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسی اور ماحولیات پر کام کرنے والے بین اقوامی مندوبین نے بھی خطاب کیا.

.....

/169